www.kefijaan.com

یہ تقسیم ہند سے چند برس قبل کا قصہ ہے دو بہنوں کا ایک ہی گھر میں رشتہ طے ہؤا بالترتیب بڑے اور اس سے چھوٹے بھائی کے ساتھ ۔ شادی ہو گئی قیام پاکستان کے بعد سارا گھرانہ ہجرت کر کے یہاں آ گیا چند برس اور گذرے تو دونوں بھائیوں کا رضائے الٰہی سے یکے بعد دیگرے انتقال ہو گیا ۔ بعد عدت کے دونوں بہنوں کا دیوروں کے ساتھ نکاح پڑھوا دیا گیا ۔ چند برس اور گذرے تو ان دونوں بھائیوں کا بھی جواں عمری میں انتقال ہو گیا ۔ اب گھر میں کوئی مرد باقی نہیں بچا تھا ۔

لوگ کہا کرتے تھے کہ چار بھائی دو بہنوں میں برابر ہو گئے ۔ دونوں بہنیں چار بھائیوں کو کھا گئیں ۔

خیر کچھ برس اور گزرے ان کے بچے جوان ہو گئے ۔ بڑی بہن نے اپنی بڑی بیٹی کا رشتہ غیروں میں طے کیا اور چھوٹی کا اپنے بھائی کے بیٹے سے ۔ منگنی کو ایک ڈیڑھ سال گزر گیا تینوں گھرانوں میں شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں کہ بڑی لڑکی کے منگیتر کا ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا اب ہنگامی طور پر اس کا رشتہ چھوٹی لڑکی کے منگیتر سے چھوٹے والے بھائی کے ساتھ طے کر دیا گیا ۔ شادی بخیر و خوبی انجام پائی بس یہ ہؤا کہ چھوٹی لڑکی اپنی بڑی بہن کی جیٹھانی بن گئی اور بڑی بہن دیورانی ۔ بہت زیادہ سال نہیں گزرے کہ ان کے بھی شوہر جو کُل دو ہی بھائی تھے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر اللہ کو پیارے ہو گئے ۔

لوگ کہا کرتے تھے کہ بیٹیاں بالکل اپنی ماں پر پڑی ہیں یہ بھی اپنے جوان جہان مردوں کو کھا گئیں ۔

حالانکہ ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں کہ کسی جوان لڑکی کا شادی کے بعد کسی حادثے یا عام طور پر ڈیلیوری کیس میں پیچیدگی کے باعث انتقال ہو گیا تب تو کوئی نہیں کہتا کہ لڑکا منحوس ہے اپنی جوان بیوی کو کھا گیا ۔

کسی بھی لڑکی کی شادی کے بعد اگر سسرال میں کوئی حادثہ یا سانحہ پیش آ جائے یا کوئی ناگہانی گھر کا راستہ دیکھ لےتو فوراً لڑکی کو سبز قدم کے خطاب سے نواز دیا جاتا ہے ۔

خود میرے ابو کی شادی کے ٹھیک آٹھویں روز ان کی ایک پہلے سے شدید بیمار بہن کا انتقال ہو گیا اور اسے امی کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ۔ اگر اس روز میری ماں نے کوئی قتل کر دیا ہوتا تو چودہ سال بعد جیل سے باہر آ جاتی ۔ مگر اس کا جرم قتل سے بھی بڑا تھا جس کی سزا اس نے بائیس برس تک بھگتی ۔

اللہ کی مشیّت کو نحوست کا نام دے کر اس کا الزام عورت ہی کے سر کیوں؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here